حضرت موسی علیہ السلام کے بعد یہودیوں کے بزرگوں”خاماموں” کے درمیان توریت کے سلسلے میں کچھ بحث و مباحثے شروع ہوئے جس کے بعد انہوں نے توریت پر تفسیریں لکھنا شروع کر دیں۔ سب سے پہلے سن 232 عیسوی میں ایک خاخام نے توریت کی تفسیر بیان کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور اس کے بعد سن501 میں دوسرے خاخام نے توریت پر دوسری تفسیر لکھی یہاں تک کہ 1457 عیسوی تک اس آسمانی کتاب پر مختلف تفاسیر لکھی گئیں۔ ان تفاسیر کے مختلف نام تھے اور مختلف لوگوں کے پاس پھیلی ہوئی شکل میں موجود تھیں۔ اسی سال “یوخاس” نامی ایک خاخام نے ان تمام تفسیروں کے مطالب جمع آوری کر کے “تلمود” نامی کتاب کا مجموعہ تیار کر دیا۔ لفظ “تلمود” دو لفظوں سے مرکب ہے۔ “تل” یعنی تعلیم و تربیت۔ اور “مود” یعنی دیانت۔ مجموعی طور پر تلمود کے معنی “دین و دیانت کی تعلیم و تربیت” کے ہیں۔
یہودیوں کی مقدس کتاب اس عنوان سے کہ وہ توریت کی تفسیر ہے اور یہودیوں کی من پسند بہت ساری بحثیں اس میں موجود ہیں جو توریت میں نہیں ہیں یہودیوں کے نزدیک ایک خاص اہمیت کی حامل ہے حتیٰ کہ یہودی تلمود کے مطالعہ کو توریت کی تلاوت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ تلمود انسانوں کو یہودی اور غیر یہودی میں تقسیم کرتی ہے اور یہودی کی اذیت و آزار کو حرام قرار دیتی ہے تلمود میں غیر یہودیوں کے اموال کو غصب کرنا اور اس کا استعمال کرنا جائز ہے غیر یہودیوں کے ناموس کے ساتھ تجاوز ان کا حق ہے اور غیر یہودیوں کو اپنا غلام بنانا قرب الہی کا سبب ہے۔
تلمود حضرت عیسی(ع) کو نبی نہیں مانتی بلکہ انہیں معاذ اللہ ایک مرتد اور کافر یہودی مانتی ہے آپ کی مادر گرامی جناب مریم کے لئے نازیبا اور ناجائز الفاظ استعمال کرتی ہے۔
منابع:
1.التل عبداله ، خطرالیهودیة العالمیة علی الاسلام و المسیحیة ،قاهره 1969 .
2. http://palpedia.maarefefelestin.com/index.php?title=%D8%AA%D9%84%D9%85%D9%88%D8%AF